پٹنہ، 15جون؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)ہمیں بھارتی عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے۔سال 1978 سے ہمیں ہمیشہ بھارتی عدالتوں سے سچ کے زور پر مضبوط و مناسب تعاون حاصل ہوتا رہا ہے۔ ہمارا بھروسہ ہے کہ انصاف کنہیں حقیقی اور دیگر وجوہات سے بھلے دیر سے ملے پر آخر کار صحیح انصاف ہوتا ضرور ہے۔سہارا سیبی معاملے میں گزشتہ 43 ماہ میں سیبی نے سرمایہ کاروں کو صرف 50 کروڑ روپئے ہی لوٹائے ہیں۔ ملک بھر کے 144 اخبارات میں چار بار اشتہارات دینے کے باوجود سیبی کو کل رقم کی واپسی (ری پیمنٹ) کی مانگ محض50 کروڑ روپئے کے لگ بھگ ہی ملی ہے۔ جبکہ سیبی نے اپنے آخری ایسے اشتہار میں یہ واضح کر چکی ہے کہ رقم کی واپسی کی مانگ کیلئے سرمایہ کاروں کو یہ آخری موقع دیا گیا ہے۔لہذا سیبی کے ذریعہ کسی بھی صورت حال میں کل رقم کی واپسی100 کروڑ روپئے سے زیادہ نہیں ہوگی. جبکہ سہارا اب تک سیبی کو پہلے ہی14,000 کروڑ روپئے(درست ڈپازٹ پرحاصل سود بھی شامل ہے) دے چکا ہے اور ساتھ ہی سہارا کی20,000 کروڑ روپئے قیمت کی غیر منقولہ اثاثوں کے اصل دستاویزات بھی سیبی کے پاس ہی ہیں۔دوسری طرف سیبی کے ذریعہ سہارا کے سرمایہ کاروں کے نہ ہونے کے دعوے کے دباؤ میں سہارا کا کہنا ہے کہ ایک بھی اکاؤنٹ غلط یا فرضی یا جعلی نہیں ہے۔ سہارا کے دعوے کی مضبوطی اسی سے واضح ہوجاتی ہے کہ سیبی سرمایہ توثیقی عمل کو ٹالتا ہی چلا جا رہا ہے۔ کیونکہ سیبی جانتا ہے کہ اگر توثیقی صحیح طریقے سے کئے جائیں گے توسہارا کا دعویٰ ضرور سچا ثابت ہوگا۔ جو سیبی کے لئے یقیناًبے حد شرمناک صورتحال ہوگی۔ کیونکہ اس وقت مقدمے کافیصلہ سہارا کے حق میں ہوگا اور سہارا کا سارا مال و دولت اس کے پاس واپس آ جائے گا۔یہاں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ سہاراشری سبرت رائے سہارا نہ تو ان دونوں کمپنیوں، جن کے خلاف معزز سپریم کورٹ نے 31.08.2012 میں حکم جاری کیا تھا، میں سے کسی کے بھی ڈائریکٹر تھے اور نہ ہی انہوں نے ان میں کوئی ایگزیکٹو کردار ہی ادا کیا تھا ۔ وہ ان میں صرف ایک شےئرہولڈرتھے اور ہیں۔ انہیں پروموٹر شےئرہولڈر کے طور پر حراست میں لیاگیا تھا۔کمپنی ایکٹ کے مطابق کوئی بھی شےئرہولڈرکبھی بھی کمپنی کی غلطی کے تئیں گرفتار نہیں کیا جا سکتا ہے۔اس معاملے کے بعد اب کوئی بھی مجسٹریٹ کسی بھی پروموٹرشےئرہولڈر کو گرفتار کر سکتا ہے کیونکہ ہر ایک پروموٹر تو کمپنی کا شےئرہولڈر ہوتا ہی ہے۔ماضی 30 ماہ سے مکمل سہارا گروپ ایک پابندی کے تلے دبا ہے۔ جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر سہارا کوئی بھی جائیداد قرض رکھ کر یا فروخت کر رقم جٹاتے ہیں تو وہ پورای دولت سیبی۔ سہارا کے اکاؤنٹ میں ہی جائے گا۔ لہذا سہارا اپنے گروپ کے لئے ایک روپیہ بھی نہیں جٹا سکتے ہیں۔ جو یقیناًکافی مشکل حالات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سہارا کو اپنے کارکنوں کو تنخواہیں اور دیگر ریگولیٹری ذمہ داریوں کوپورا کرنے مشکل ہو رہی ہے۔ سہارا کا کہنا ہے کہ دراصل، ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اجازت دیتا ہے جبکہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں اور اس کے بعد ان پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ وہ چل کیوں نہیں رہے ہیں۔سہارانے2006میں بھی تقریباََ 1.98 کروڑ اوایف سی ڈی (آپشنلی فلی کنورٹیبل ڈیبنچر) سرمایہ کاروں کے تئیں ریٹرن کمپنی رجسٹرار، کولکاتہ،سے باضابطہ اجازت اور منظوری لے کر ان کے پاس فائل کرایا تھا۔ سرمایہ کاروں کی یہاں بھی تعداد 50 سے زیادہ تھی۔اس سہارا سیبی کے معاملے میں بھی سہارا نے 2008 میں کمپنی رجسٹرار،اترپردیش،اور کمپنی رجسٹرار، مہاراشٹر، سے اوایف سی ڈی کے ذریعے سہارا انڈیا ریئل اسٹیٹ کارپوریشن لمیٹڈ(SIRECL)اورسہاراہاؤسنگ انوسٹمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (SHICL) کے لئے فنڈز اکٹھا کرنے کیلئے تحریری اجازت حاصل کی تھی۔ کمپنی رجسٹرار براہ راست حکومت ہند کے کارپوریٹ امور کی وزارت کے ماتحت کام کرتا ہے۔یہاں یہ بھی غور طلب ہے کہ سہارا باقاعدگی سیباضابطہ طریقے سے اپنے بیلنس شیٹ اور ریٹرنس شیٹ کمپنی رجسٹرار کے پاس فائل کیاہے۔ انہوں نے بھی باقاعدگی سے سہارا کا معائنہ اور چیک کیا تھا اور ان تمام عمل میں سیبی کبھی بھی شامل نہیں تھا۔ یہاوایف سی ڈی (آپشنلی فلی کنورٹیبل ڈیبنچر)سرکاری منظوری کے بعد قوانین پر عمل کرتے ہوئے ہی جاری کی گئیں تھیں۔یہاں تک کہ اس تنازعہ کا آغاز میں ہی، اس وقت کے ہندوستان کی حکومت کے وزیر قانون مسٹر ویرپا موئلی، ہندوستان کے سابق چیف جسٹس مسٹر اے ا یم احمدی، بھارت کے سابق چیف جسٹس مسٹر وی این کھرے، ہندوستان کے سابق سالیسیٹر جنرل مسٹرموہن پراسرن، ہندوستان کے سابق ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ڈاکٹر اشوکنگم اور دیگر کئی معروف ماہر قانون نے اس موضوع میں واضح رائے دیا ہے کہSIRECLوSHICL کے معاملات میں سہارا صحیح و سیبی غلط ہے۔ان تمام معروف ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ دونوں کمپنیاں سیبی کے دائرہ اختیار سے باہر تھیں۔ان حقائق کے باوجود سیبی نے سال 2010سے ہی سہارا کو سزا دینا شروع کر دیا تھا، وہ بھی پوروگامی (رٹرواسپیکٹیو) اثر سے۔ جس کا سبب سیبی نے سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد یعنی 50 سے زائد سرمایہ کار مانا اور کہا کہ اس لئے اسے نجی پلیسمنٹ نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم قانون میں ایسی کوئی حد کہیں بھی نہیں دی گئی ہے۔ ویسے بھی سہارا نے 2006 میں اپنے ایک سابق اوایف سی ڈی ایشوکے1.98کروڑ سرمایہ کاروں کی واپسی کمپنی رجسٹرار، کولکتہ، کے پاس فائل کرایا تھا۔ کبھی بھی کسی افسر یا کسی محکمہ نے کوئی اعتراض نہیں اٹھائی۔ یہاں یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ جب سال 2008 میں دو دیگر کمپنی رجسٹرارو ں نے سہارا کی دو یگرکمپنیوں کواوایف سی ڈی جاری کرنے کی اجازت دی۔ تب پھر آخر سیبی ان دو کمپنی رجسٹرارو ں کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کررہا ہے؟۔